15 جمادی الاول 1439(ھ۔ ق) مطابق با 02/02/ 2018 کو نماز جمعہ کی خطبیں

15 جمادی الاول  1439(ھ۔ ق) مطابق با 02/02/ 2018 کو نماز جمعہ کی خطبیں

15 جمادی الاول 1439(ھ۔ ق) مطابق با 02/02/ 2018 کو نماز جمعہ کی خطبیں

  • نکاح اور طلاق

15 جمادی الاول کو نماز جمعہ حجت الاسلام مولانا سید موسوی صاحب کی اقتداء  میں آدا کی گئی۔
مولانا صاحب نے پہلے خطبے میں گزشتہ جمعے میں چھیڑے گئے موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا

کہ سلام اسمائے الہی میں سے ایک ہے اور یہ سلامتی محبت  آمن و آمان کا پیغام ہوتا ہے۔  جیسا کہ سورہ حشر کے آخری آیاتوں میں ارشاد؛ کیا جا رہا ہے۔

کہ: هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِکُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ ۚ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِکُونَ (23)

وہ ہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی بادشاہ ہے، نہایت پاکیزہ، سلامتی دینے والا، امان دینے والا، نگہبان، بڑا غالب آنے والا، بڑی طاقت والا، کبریائی کا مالک، پاک ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔  اور جب اللہ تعالی آپنے نبیوں  سے ہمکلام  ہوتےہے تو فرماتے ہے۔

﴿قُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ وَسَلَامٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَىٰ...٥٩﴾...سورة النمل

"آپ صلی علیہ وسلم کہہ دیجیے سب تعریف اللہ جل شانہ ہی کو سزا وار ہے اور اس کے منتخب بندوں پر سلام ہے۔"

دوسری جگہ فرمایا: ﴿سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّ‌بٍّ رَّ‌حِيمٍ ﴿٥٨﴾...سورۃ یٰس

"پروردگار مہربان کی طرف سے سلام (کہا جائے گا)"

﴿سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ ﴿٧٩﴾...سورة الصافات

"تمام جہانوں میں نوح پر سلامتی ہو"

﴿سَلَامٌ عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُ‌ونَ ﴿١٢٠﴾...سورة الصافات

"موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام پر سلام ہو "

حضرت الیاس علیہ السلام پر سلامتی کا اعلان اس طرح ہوا:

﴿سَلَامٌ عَلَىٰ آلِ يَاسِينَ ﴿١٣٠﴾...سورة الصافات "اور الیاسین پر سلام ہو"

اللہ جل شانہ نے تمام پیغمبروں کو سلامتی سے نوازا ، فرمایا :

﴿وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْ‌سَلِينَ ﴿١٨١﴾...سورة الصافات "پیغمبروں پر سلام ہو"

اور اسی طرح جب مؤمنین پیغمبر(ص) سے ملنے  آرہے تھیں تو اللہ تعالی نے حکم فرمایا:

وَإِذَا جَاءکَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَيْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَن عَمِلَ مِنکُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۔ انعام آیہ 54

اور جب آپ کے پاس ہماری آیات پر ایمان لانے والے لوگ آجائیں تو ان سے کہیے: سلام علیکم، تمہارے رب نے رحمت کو اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے کہ تم میں سے جو نادانی سے کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح کر لے تو وہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے

اور اسی طرح اللہ تعالی نے آپنے بندو کی جاہلوں کے  ساتھ ملتے وقت کی راہنمائی فرمایا کہ:

وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا (63)

 اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر (فروتنی سے) دبے پاؤں چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے گفتگو کریں تو کہتے ہیں: سلام 

اور جب انسان دنیا میں آجا تا ہے تواللہ تعالی  فرماتے ہے

﴿وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا ﴿٣٣﴾...سورة مريم

اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مجھے موت آئے گی اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام اور رحمت ہے۔

یہ فقط حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے نہ تھا۔ بلکہ ہربچہ جب دنیا میں آجاتا ہے تو اسکے لئے آپنے رب کی طرف سے پیغام سلامتی آجاتا ہے۔ اور اسی طرح جب دنیا سے جائیگا اور جب پھر ‌زندہ اٹھایا جائیگا۔

اسی طرح فرماتے ہے  کہ جب حضرت عزرائیلؑ    ایک متقی اور مؤمن شخص کا روخ قبض کرنے آجاتا ہے تو کہتے ہے:

(سَلَـٰمٌ عَلَيْکُم بِمَا صَبَرْ‌تُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى ٱلدَّارِ‌)

(کہیں گے ) تم پر سلامتی یہ تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر بہت خوب ہے۔"

 لَهُمْ دَارُ السَّلاَمِ عِندَ رَبِّهِمْ وَهُوَ وَلِيُّهُمْ بِمَا کَانُواْ يَعْمَلُونَ(127)

ان کے پروردگار کے ہاں ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے ان کے اعمال کے عوض، اور وہی ان کا کارساز ہے۔ سورہ انعام آیہ127

﴿ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ ۖ ذَٰلِکَ يَوْمُ الْخُلُودِ ﴿٣٤﴾... سورة ق

اس (جنت ) میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔"

﴿إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ﴿٤٥﴾ ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِينَ ﴿٤٦﴾...سورة الحجر

"جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے ۔ان سے کہا جائے گا کہ ان میں سلامتی سے داخل ہو جاؤ۔"

﴿وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ ﴿٧٣﴾...سورة الزمر

"تو داروغہ جنت ان سے کہے گا ۔تم پر سلام ہو ،تم بہت اچھے رہے ۔اب اس میں ہمیشہ کے لیئے داخل ہو جاؤ۔"

(سَلَـٰمٌ عَلَيْکُم بِمَا صَبَرْ‌تُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى ٱلدَّارِ‌)

(کہیں گے ) تم پر سلامتی یہ تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر بہت خوب ہے۔"

(خَـٰلِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَ‌بِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَـٰمٌ)

اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان (باغات )میں رہیں گے وہاں ان کا ملنا سلام ،سلام ہو گا۔"

﴿وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَن سَلَامٌ عَلَيْکُمْ...٤٦﴾ ...سورة الأعراف

"تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔"

﴿دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَکَ اللَّـهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ...١٠﴾...سورة يونس

"جب وہ ان کی نعمتوں کو دیکھیں گے تو بے ساختہ کہیں گے "سبحان اللہ "اور آپس میں ان کی دعا "سلام " ہو گی"۔

(لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا ﴿٢٥﴾ إِلَّا قِيلًا سَلَـٰمًا سَلَـٰمًا ﴿٢٦﴾)

"وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ ،وہاں ان کا کلام سلام ،سلام ہو گا۔"

مولانا صاحب نے دوسرے خطبے میں گزشتہ جمعے میں چھیڑے گئے موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ حضرت زہراءؑ   کی زندگی انسانوں کے لئے ہر پہلو میں ایک بہترین مثال اور نمونہ ہے۔

دین اسلام جو کہ  اللہ کا بھیجا ہوا آخری دین ہے تربیت انسان کے موضوع کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

تربیت کے لئے زمینہ کا ہموار کرنا اور اسی طرح سب ان دوسرے عوامل کا مہیا کرنا ضروری ہے کہ جن کی وجہ سے انسان کی تربیتی طاقت اور قوت کو فعال کیا جا سکے اور پھر اسکو صحیح اور مطلوب طریقے سے استعمال کیا جائے۔

دین اسلام نے آیات اور روایات میں تربیت کو ایک خاص انداز میں پیش کیا ہےاور تربیت کرنے کے لئے بہترین مثالیں بھی انسان کے گود میں ڈال دی ہیں کہ ان میں سے ایک حضرت زہراء ؑ ہیں۔

حضرت فاطمہ زہرا ؑ وہ بی بی ہیں کہ جن پر پورےخاندان رسالت کو فخر ہے۔ یہ وہ مخدومہ ہیں کہ جنکے فضایل اور صفات انبیاءؑ  کے برابر ہیں۔

حضرت فاطمہ ؑ کہ جو پیغبر خدا(ص) کی بیٹی اور حضرت علیؑ کی بیوی ہیں ، اس بی بی کا اتنا عظیم مقام ہے کہ کتابوں میں اسکو (حقیت انسانیت) اور (عورت کی مکمل حقیت) کے القاب سے ذکر کیا گیا ہے۔وہ انسانیت کے لئے ایک مکمل اور بے نقص و بے عیب نمونہ ہیں۔

حضرت امام خمینی رح نے فرمایا: کہ اگر حضرت زہراءؑ مرد ہوتیں تو نبی مرسل ہوتیں۔

حضرت زہراءؑ  کا بیٹی ہونے کے ناطے مقام۔

بی بی ؑ کے لیئے حضرت رسول مکرم اسلام نے فرمایا: کہ "ام ابیھا" یعنی  اپنے باپ کی ماں۔

جنگ احد جو اول اسلام میں بہت سخت جنگوں  میں سے ایک تھی، اس  میں جب پچاس تیر اندازوں نے غنیمت کی لالچ میں  اپنے مورچوں کو ترک کردیا اور اس طرف کو خالی چھوڑدیا تو وہاں سے دشمن نے حملہ کیا اور جیتی ہوئی  جنگ ہار میں بدل گئی۔

 رسول خدا(ص) زخمی ہو گئے اور حضرت علی علیہ السلام نے آپ(ص) کو ایک پتھر کے سائے کے نیچے  منتقل کر دیا اور اس وقت حضرت زہرا‏ء ؑ اپنے والد صاحب کی تیمارداری اور خدمت کے لیئے حاضر ہو گئیں اور خون صاف کیا اور زخم پر مرہم لگایا اور اسی طرح  اور بہت سارے مقامات پر انہوں نے ایک بہترین  بیٹی ہونے  کو ثابت کیا۔

بیوی ہونے کے لحاظ سے حضرت زہرا‏ء ؑ نے وہ مثال قائم کی کہ رہتی دنیا تک باقی رہیگی۔ کیونکہ ا پنے شوہر سے محبت، عشق، جھاد میں اپنے شوہر کی مدد ، شوہر کی فرمانبرداری، اور انکے ساتھ کام کو تقسیم کرنا، مہمانداری اور فقیروں کو کھانا کھلانا۔۔۔ سب کچھ مثالی اور نمونہ عمل ہے۔

حضرت زہراء کا مقام مادر۔

آپ نے ماں ہو کے  بہت کم عرصے میں ایسی  مثال قائم کی کہ جو ہمیشہ کے لیئے باقی رہیگی۔ کیونکہ آپکی گود سےامام حسنؑ اور امام حسینؑ نیز حضرت  زینبؑ اور ام کلثوم ؑنے تربیت پائی ہے۔

آج کل کی مغربی عورت معاشرے کے لئے ایک مضر اور منفی نمونہ ہے۔آج کل غرب نے عورت کا جو نمونہ پیش کیا ہے اس کا نتیجہ معاشرے  اور خاندانوں کی نابودی کے سوا کچھ نہیں۔

مغرب میں  عورت کو آزاد اور کھلا چھوڑا گیا ہے اور اسکی پاکدامنی ، عفت، خوبصورتی کو بازار میں نیلام کیا گیا ہے۔ بالکل ٹیشو پیپر کی طرح کہ  جسے استعمال کر کے گند کی کی بالٹی میں پھینکا جاتا ہے۔

Share:
Tags: